ایک اور ملک کا تیل بردار جہاز بغیر ادائیگی آبنائے ہرمز سے گزر گیا

Another country's oil tanker passes through the Strait of Hormuz without paying
تھائی لینڈ کا ایک آئل ٹینکر ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بعد بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر گیا، اور اسے راستہ حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی ادائیگی بھی نہیں کرنا پڑی۔بنچک کارپوریشن کے زیرِ ملکیت یہ ٹینکر پیر کے روز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرا، جس کے لیے تھائی وزیر خارجہ سیہاسک پھوانگکیتکیو اور تھائی لینڈ میں ایران کے سفیر کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے تھے۔

LOADING...

تھائی وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے ایران سے درخواست کی تھی کہ تھائی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جائے، جس پر ایرانی حکام نے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ان جہازوں کی تفصیلات طلب کیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی حکمت عملی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل اور ایل این جی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جو دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

ایک اور ملک کا تیل بردار جہاز بغیر ادائیگی آبنائے ہرمز سے گزر گیا

جنگ کے آغاز کے بعد سے تھائی لینڈ میں ایندھن کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئی ہیں، اگرچہ حکومت کی جانب سے سپلائی کو کافی قرار دیا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو ہفتے قبل تھائی پرچم بردار جہاز “مایوری ناری” آبنائے ہرمز میں ایک حملے کا نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو انخلا کرنا پڑا۔ تھائی حکام کے مطابق اب تک تین لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں معلومات کا انتظار ہے۔تھائی حکام نے مزید بتایا کہ ایک اور تھائی جہاز، جو ایس سی جی کیمیکلز کی ملکیت ہے، ابھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کا منتظر ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹینکر 11 مارچ سے خلیج فارس میں لنگر انداز تھا اور اب ایران اور تھائی وزارت خارجہ کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں وطن واپس روانہ ہو چکا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس محفوظ گزرگاہ کے لیے کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی گئی۔ایران اس سے قبل اقوام متحدہ کو آگاہ کر چکا ہے کہ غیر معاندانہ جہاز، اگر ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں، تو آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ تھائی سفارتخانے نے عمانی حکام کے ساتھ بھی اس سلسلے میں تعاون کیاتھائی لینڈ میں ایرانی سفارتخانے نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “دوستوں کا ایک خاص مقام ہوتا ہے۔”



اشتہار


اشتہار