ایمیزون نے ٹک ٹاک خریدنے کیلئے بولی لگا دی

Amazon bids to buy TikTok
ایمیزون نے چینی ملکیتی سوشل میڈیا ایپ ’ٹک ٹاک‘ خریدنے کے لیے وائٹ ہاؤس کو باضابطہ پیشکش جمع کرادی ہے۔ذرائع کے مطابق کمپنی نے اس ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری کامرس ہاورڈ لٹ نک کو خط بھیجا، تاہم اس پیشکش کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا کیونکہ اسے اس وقت جمع کرایا گیا جب امریکہ میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے والی ہے۔

LOADING...

یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اگر بائٹ ڈانس، جو ٹک ٹاک کی ملکیت رکھتی ہے، امریکی آپریشنز فروخت کرنے میں ناکام رہی تو ایپ کو 5 اپریل سے ملک میں بند کیا جا سکتا ہے۔امریکی قانون سازوں نے گزشتہ سال 19 جنوری تک فروخت کی ڈیڈ لائن دی تھی، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس مدت میں 75 دن کی توسیع دی تھی۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ بدھ کے روز امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ سنا سکتے ہیں۔ مزید برآں، موبائل ٹیکنالوجی کمپنی ایپ لووِن نے بھی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے پیشکش دی ہے۔ٹک ٹاک ای کامرس کے لیے ایک بڑے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے اور اس کا آن لائن مارکیٹ پلیس ”ٹک ٹاک شاپ“ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ایپ کے 17 کروڑ سے زائد امریکی صارفین اور اس کی تجارتی صلاحیت ایمیزون کے لیے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایمیزون نے ٹک ٹاک کے کامیاب ماڈل کو دیکھتے ہوئے اپنی ایک مختصر ویڈیو سروس لانچ کی تھی، لیکن بعد میں اسے بند کر دیا گیا۔گزشتہ سال اگست میں ایمیزون اور ٹک ٹاک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت صارفین ٹک ٹاک کے ذریعے براہ راست ایمیزون سے خریداری کر سکتے تھے۔ تاہم اس معاہدے پر امریکی قانون سازوں نے قومی سلامتی کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔





اشتہار


اشتہار