انٹرنیٹ رکاوٹیں: پاکستان کونسا نظام اپ گریڈ کر رہا ہے

Internet bottlenecks: What system is Pakistan upgrading?

انٹرنیٹ کی بندش کیوں ہوئی؟ وجہ سامنے آگئی ملک میں ویب مانٹرنگ سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس کی نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بھی تصدیق کردی۔ لیکن یہ ویب مانیٹرنگ سسٹم آخر ہے کیا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین اور دیگر صارفین بالخصوص پی ٹی آئی کے حامیوں کو حال ہی میں انٹرنیٹ کی بندش کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے رواں ہفتے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے ’ویب مانیٹرنگ سسٹم‘ اپ گریڈ کرنے کی کوششوں کی وجہ سے یہ رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

ملک میں انٹرنیٹ کی ترقی پر نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ’ویب مانیٹرنگ سسٹم‘ پاکستان نے دسمبر 2018 میں عمران خان کے دور میں 18.5 ملین ڈالر کی لاگت سے کینیڈا کی ایک کمپنی سے حاصل کیا تھا۔

متنازع ویب مانیٹرنگ سسٹم اب عمران خان کی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کا ایک آلہ بنتا جا رہا ہے، جس نے 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل 3 ورچوئل ریلیاں کیں، بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کے مطابق 2 ریلیاں انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔

پاکستان کی جانب سے عمران خان کی قیادت میں ویب مانیٹرنگ سسٹم کی خریداری سے متعلق رپورٹس پہلے ہی پریس میں آچکی ہیں، نیویارک میں قائم کوڈا اسٹوری اکتوبر 2019 میں یہ معاملہ سامنے لانے والی پہلی اشاعت تھی، اس کے بعد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی یہ خبر دی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس وقت فوری طور پر وضاحت پیش کی تھی۔ لیکن وضاحت کرتے کرتے یہ تصدیق بھی کر دی کہ ویب مانیٹرنگ سسٹم لگایا جا رہا ہے۔

ویب مانیٹرنگ سسٹم کیا ہے؟

جو ویب مانیٹرنگ سسٹم یا ڈبلیو ایم ایس پاکستان نے 2018 میں کینیڈا کی فرم سینڈ وائن سے حاصل کیا تھا وہ انٹرنیٹ پر مواصلات کی نگرانی کے لیے ڈیپ پیکٹ انسپکشن (ڈی پی آئی) کا استعمال کرتا ہے۔ڈیپ پیکٹ انسپکشن کو سمجھنے کیلئے قدیم زمانے میں ڈاک کی سنسر شپ کا تصور کریں۔

 جب جنگ کے دوران پوسٹ آفس میں کچھ اہلکار لوگوں کے خطوط کھولتے تھے، انہیں پڑھتے تھے اور کئی لائنوں کو کالی سیاہی سے ڈھانپ دیتے تھے۔ یہ پیچیدہ قسم کی سنسر شپ تھی۔ جب کہ ایک سادہ سنسرشپ یہ تھی کہ کسی علاقے کی طرف بھیجے گئے تمام خطوط روک لئے جائیں۔

پہلی قسم کی سنسر شپ کو آپ ڈیپ پیکٹ انسپکشن اور دوسری قسم کی سنسرشپ کو آپ روایتی پیکٹ انسپکشن کہہ سکتے ہیں۔انٹرنیٹ کی دنیا میں روایتی انسپکشن پیکٹس یعنی ڈیٹا کے صرف ہیڈر کو دیکھتی ہے، یعنی لفافے پر پتہ دیکھنے کی طرح۔ جب کہ ڈیپ پیکٹ انسپکشن گہرائی میں پیکٹ کامعائنہ کرتی ہے۔

ڈی پی آئی مخصوص ڈیٹا یاکوڈپے لوڈز والے ڈیٹا پیکٹس کو تلاش کرتا ہے،ان کی شناخت اوردرجہ بندی کرتاہے اور انہیں آگے بھیجتا ہے یا بلاک کرتا ہےہماری پوسٹل سنسرشپ کی تمثیل میں یوں سمجھ لیں کہ کوئی آپ کے خطوط کھول کر پڑھ رہا ہے اور ان میں سے بعض جملوں پر سیاہی پھیر رہا ہے۔ اس طرح خط موصول ہونے کے باوجود مکمل پیغام آپ تک نہیں پہنچتا۔

یوں پاکستان میں انٹرنیٹ آن بھی رہتا ہے لیکن کام نہیں کرتا۔ماضی میں پوسٹ آفس پر سنسر والے خط کھولتے تھے، آج کی دنیا میں یہ سنسرشپ کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہے اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر پروسیسنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

اتنی زیادہ پروسیسنگ کہ یہ کام چند سال پہلے تک ناممکن تھا لیکن اب کئی ممالک ڈبلیو ایم ایس استعمال کر رہے ہیں جن میں ترکی، مصر، اردن اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ہیکرز کو کمپنی کے نیٹ ورک سے دور رکھنے کے لئے آپ کے دفتر میں نصب فائر وال بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔ فائر وال کے پیچھے ہونے کے سبب اپ کا انٹرنیٹ اسی وجہ سے سست ہوتا ہے۔

ویب مانیٹرنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن

پاکستان کی جانب سے سینڈ وائن سے ڈبلیو ایم ایس کی خریداری کی کبھی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ملک اب بھی اسی نظام کو استعمال کر رہا ہے یا نہیں تاہم ویب مانیٹرنگ سسٹم کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو تبدیل کرنا نا ممکن نہیں۔

ستمبر 2020 میں پاکستانی گیمرز کو ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہوا کہ ان کے ڈیٹا پیکٹس بڑے پیمانے پر ضائع ہو رہے تھے اور ان لائن گیمنگ مشکل ہوگئی تھی۔ اس وقت یہ خیال کیا گیا تھا کہ یا تو سیںڈوائن سسٹم کو اپ گریڈ کر رہا ہے یا پاکستان نے کسی اور کمپنی سے معاہدہ کر لیا ہے اور اب سسٹم کو نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اب بھی یہی معاملہ ہو سکتا ہے۔یا تو پاکستان مزید پابندیاں لگانے کے لیے سسٹم کو اپ گریڈ کر رہا ہے یا وہ ویب مانیٹرنگ ٹولز کو نئے طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ویب مانیٹرنگ سسٹم فراہم کرنے والی کمپنی کو تبدیل کر رہا ہے۔













اشتہار


اشتہار