Turkish President Recep Tayyip Erdogan announces visit to Pakistan

 

Turkish President Recep Tayyip Erdogan announces visit to Pakistan

Islamabad (Online) Turkish Ambassador Mehmet Pakichi has said. Turkish President Recep Tayyip Erdogan will visit Pakistan in September. He expressed these views while addressing a function called "Victory of Democracy".


اسلام آباد (آن لائن) ترک سفیر مہمت پاکیچی نے کہا ہے۔ ستمبر میں ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان کا دورہ کریں گے،فتح اللہ گولن تنظیم د ہشت گرد نیٹ ورک نے حکومتی و انتظامی اداروں میں گھسنے کی کوشش کی، متعدد ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ، پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمہوریت کی فتح نامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا دہشت گرد تنظیم فتح اللہ گولن نے ترکی بھر میں عطیہ والے سکول 800 سے ز ائد سکول کھولے، اس مہم میں بہتر تعلیم کے وعدے پر نہتے ذہنوں کو مستقبل کے لیے بھارتی کیا جا رہا تھا، ایک انٹیلی جنس سروس کی طرح انہوں نے خاموشی سے ننھے ذہنوں کی برین واشنگ کا سلسلہ جاری رکھا، انہوں نے کوڈ ناموں کا استعمال کر کہ سرکاری اداروں اور حکومتی سیکٹروں میں۔ گھسنے کی کوشیش کی۔ حتی کہ وہ پولیس اکیڈمی اور۔مرکزی پولیس سروس میں بھی گھس رہے تھے۔ ان کو ملک کی پروہ نہیں تھی بلکہ وہ اپنی تنظیم کے مفادات کو ترجیح دے رہے تھے۔ فتح اللہ گولن کامے دہشت گرد نیٹ ورک نے حکومتی و انتظامی اداروں میں گھسنے کی کوشیش کی۔ انہوں نے کہا جن ممالک میں گولن نیٹ ورک فعال ہے وہ ان کی سالمیت کے لیے خطرناک ہے۔ ہمارا مقصد اپنے دوستوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا وہ جہاں جہاں بھی آپریٹ کرتے ہیں ان ممالک کے کیے براہ راست خطرہ ہیں۔ 

انہوں نے کہا تنظیم کو متعدد ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ پاکستان ان اولین ممالک میں ہے جس نے 2018 میں فتح اللہ گولن جو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل نے بھی اس تنظیم جو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ انہوں نے کہا قتح اللہ گولن کے فعال سکول اور تعلیمی اداروں کو 15 سے زاید ممالک میں بند کیا گیا۔

ان کی جگہ متبادل تعلیمی ادارے کھولے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف ترک حکومت کی جدوجہد جاری ہے۔ اس موقع پر ترک سفارت خانے کی جانب سے دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں پر ایک دستاویزی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم پاکستان کے لیے اب بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا فتح اللہ گولن نوے کی دھائی میں ہی امریکہ فرار ہو گیا تھا۔ اس لیے اس کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس نے امریکہ میں بیٹھ کر ترکی میں بغاوت کی کوشیش کی۔ انہوں نے کہا ترکی کی خواہش ہے کہ اس کی قیادت کو واپس ترکی لایا جا ئے ۔ اس کے سلیپر سیل ابھی بھی موجود ہیں مگر زیادہ موثر نہیں ہیں ۔

انہوں نے کہا یہ دہشت گرد تنظیم ایک خفیہ ایجنسی کی طرح کام کرتی ہے۔ جب ان دہشت گرد تنظیموں کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ دیگر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ملکر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا فتح اللہ گولن دہشت گرد نیٹ ورک پی کے کے، پیش مرگاہ اور داعش سمیت متعدد تنظیموں سے رابطہ میں تھی۔

یہ داعش کے ساتھ مل کر بھی کاروائیاں کر رہے تھے۔ اس دہشت گرد نیٹ ورک نے متعدد گھوسٹ ادارے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے کھول رکھے تھے۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں وفد کے ہمراہ ترکی کا دورہ کیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ کافی کامیاب رہا ۔

انہوں نے ترکی میں نجی شعبہ اور حکومتی سیکٹر میں متعدد ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں دونوں ممالک میں متعدد باہمی معاہدوں پر دستخط کیے گیے۔ انہوں نے کہا ستمبر میں ترک صدر طیب اردوان پاکستان کا دورہ کریں گے، ان کے دورہ پاکستان کے دوران متعدد باہمی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، انہوں نے کہا ترکی کے عوام ترک فوج کے خلاف نہیں ہیں۔

ترک عوام ان عناصر کے خلاف تھے، ترک عوام ان عناصر کے خلاف کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا ترک فوج سے اس دہشت گرد نیٹ ورک کو اکھاڑ پھینکا گیا ۔ اب ترک فوج ان عناصر بالکل پاک ہے، انہوں نے کہا ط نیٹو نے بھی اس تنظیم کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ترکی، سویڈن اور فن لینڈ نے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے جس میں اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا ناکام بغاوت کے بعد دہشت گرد گولن نیٹ ورک کے اکثر اراکین نے یورپ اور مغربی ممالک میں پناہ کی،ان دہشت گرد عناصر کو یورپ اور مغرب نے پناہ دی۔








حوالہ

Advertisement


Advertisement