آپریشن ایگل کلاؤ : جب ریت کے طوفان نے امریکا کو ایران میں رسوا کیا

Operation Eagle Claw: When a sandstorm humiliated America in Iran
انقلاب ایران کے فوری بعد تہران میں 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جن کی رہائی کیلیے امریکی فوجی خفیہ آپریشن ایگل کلاؤ قدرتی طور پر بری طرح ناکام ہوا۔تہران : 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پیش آنے والا امریکی سفارت خانے کا واقعہ تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔

LOADING...

جب تہران میں موجود امریکی سفارت خانے پر مظاہرین نے دھاوا بول کر درجنوں امریکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا، اس واقعے نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھااس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک تھی، امریکی حکومت نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔جس کے تحت ایک خفیہ فوجی آپریشن ترتیب دیا گیا، جسے آپریشن ایگل کلاؤ کا نام دیا گیا، ایران میں اس واقعے کو عموماً ’واقعہ طبس‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

آپریشن ایگل کلاؤ : جب ریت کے طوفان نے امریکا کو ایران میں رسوا کیا

یہ کارروائی 24 اور 25 اپریل 1980 کی درمیانی شب انجام دی گئی، جس کا مقصد تہران میں قید 52 امریکی یرغمالیوں کو بحفاظت نکالنا تھا۔منصوبے کے مطابق امریکی فوجی دستے ایران کے صحرائی علاقے دشتِ کاویر میں اتارے گئے، جہاں سے انہیں خفیہ طور پر آگے بڑھنا تھا۔تاہم مشن کے دوران غیر متوقع موسمی حالات نے پوری کارروائی کو شدید متاثر کیا، اچانک آنے والے ریت کے شدید طوفان نے فضائی آپریشن کو مفلوج کردیا، جس کے باعث ہیلی کاپٹروں اور طیاروں میں فنی خرابیاں پیدا ہوگئیں اور پائلٹس کو حدِ نگاہ تک کچھ دکھائی دینا بند ہوگیا۔

آپریشن ایگل کلاؤ : جب ریت کے طوفان نے امریکا کو ایران میں رسوا کیا

صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب ایک امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارہ آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں 8 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔اس سانحے کے بعد آپریشن ایگل کلاؤ کو فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا اور امریکی افواج کو پسپائی اختیار کرکے واپس جانا پڑا۔یہ ناکامی نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی میں رکاوٹ بنی بلکہ عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو بھی شدید دھچکا پہنچا، مبصرین کے مطابق اس واقعے نے امریکی خارجہ پالیسی اور فوجی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

موجودہ حالات میں ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، جہاں آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک آمنے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں اور ڈیڈ لائنز دی جا رہی ہیں، جس نے عالمی برادری میں ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے، یا اس بار حالات مختلف رخ اختیار کریں گے۔




اشتہار


اشتہار