صرف 1.7 میل کیلیے 53 سیکنڈ کی پرواز: انوکھا فضائی ریکارڈ

53-second flight for just 1.7 miles: Unique air record
دنیا میں فضائی سفر عموماً طویل فاصلوں اور گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے، مگر اسکاٹ لینڈ کے اورکنی جزائر میں ایک ایسی مسافر پرواز بھی چلائی جاتی ہے جو چند سیکنڈ میں اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔

LOADING...

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پرواز دنیا کی سب سے مختصر شیڈولڈ مسافر فلائٹ کے طور پر جانی جاتی ہے، جو روزانہ ویسٹری اور پاپا ویسٹری نامی دو جزیروں کے درمیان آپریٹ ہوتی ہے۔اس منفرد فضائی روٹ کا فاصلہ محض 1.7 میل ہے، جسے عام حالات میں تقریباً 53 سیکنڈ میں طے کر لیا جاتا ہے جب کہ سرکاری طور پر اس پرواز کے لیے 90 سیکنڈ کا وقت مقرر ہے۔ موسمی حالات، خصوصاً تیز ہواؤں کی موجودگی میں یہ سفر مزید مختصر ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔

صرف 1.7 میل کیلیے 53 سیکنڈ کی پرواز: انوکھا فضائی ریکارڈ
یہ پرواز لوگن ایئر کی جانب سے برٹن نارمن بی این-2 آئی لینڈر طیارے کے ذریعے چلائی جاتی ہے، جو مختصر فاصلوں اور دشوار موسمی حالات میں محفوظ آپریشن کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کے لیے یہ پرواز نہ صرف سہولت کا ذریعہ ہے بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بھی بن چکی ہے۔ماہرین کے مطابق سمندری راستے کے مقابلے میں یہ فضائی سروس زیادہ قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے کیوں کہ خراب موسم میں فیری سروس اکثر منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس یہ مختصر پرواز زیادہ تر حالات میں بلا تعطل جاری رہتی ہے۔ 


 جس سے مقامی باشندوں کو آمدورفت میں آسانی ہوتی ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں جزیروں کے درمیان پل تعمیر کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ اس پر بھاری لاگت آئے گی، موسم سخت ہے اور دونوں جزیروں کی مجموعی آبادی محض 600 کے قریب ہے۔ اسی لیے فضائی سروس کو ہی سب سے مؤثر حل قرار دیا گیا ہے۔یہ مختصر ترین پرواز دنیا بھر کے سیاحوں اور ہوا بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بن چکی ہے، جو محض چند سیکنڈ کی فلائٹ کا تجربہ کرنے کے لیے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پرواز اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح محدود وسائل اور جغرافیائی مشکلات کے باوجود جدید ٹیکنالوجی سے مؤثر سفری حل نکالا جا سکتا ہے۔




اشتہار


اشتہار