غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش میں مصری شہری خوراک بوتلوں میں بند کرکے سمندر میں پھینکنے لگے

Egyptians pour food into bottles in an attempt to get aid to Gaza
غزہ میں قحط اور  بھوک کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھ کر مصری شہریوں نے غزہ تک امداد پہنچانےکے لیے  ایک منفرد مہم 'سمندر سے سمندر' شروع کردی۔

LOADING...

اس مہم کے تحت مصر کے شہری ایک یا 2 لیٹر کی پلاسٹک کی بوتلوں میں چاول، دالیں، گندم اور دیگر خشک غذائیں بھر کر اسے  بحیرہ روم میں ڈال رہے ہیں، صرف اس اُمید کے ساتھ کہ کسی طرح یہ بوتلیں غزہ کے ساحل تک پہنچ جائے۔

غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش میں مصری شہری خوراک بوتلوں میں بند کرکے سمندر میں پھینکنے لگے
غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش میں مصری شہری خوراک بوتلوں میں بند کرکے سمندر میں پھینکنے لگے


مہم میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی محاصرے کے باعث امدادی ٹرکوں کو سرحد پر روک دیا جاتا ہے جس کے باعث غزہ میں کئی مہینوں سے فلسطینی شہری بھوک کا شکار ہیں۔مہم میں شامل افراد نے بحیرہ روم سے جُڑے دیگر ممالک جیسے لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش کے عوام سے بھی اس مہم میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔مصر کے شہریوں کے اس منفرد اقدام اور  جذبے کو  سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے کڑے پہرے کے باعث غزہ میں کئی ماہ سے امداد ٹرک داخل نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے غزہ میں قحط کی صورت حال پیدا ہوگئی ہےعرب میڈیا نے فلسطینی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں قحط اور خوراک کی کمی کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 9 افراد شہید ہوگئے جس کے بعد بھوک سے شہید ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 122 ہوگئی ہے۔ 



حوالہ



اشتہار


اشتہار