وزیراعلیٰ نے پنجاب میں سکول ایجوکیشن کیلئے "سی ایم ایجوکیشن کارڈ" متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے،اس کارڈ کے تحت 80 فیصد سے زیادہ نمبر لینے والے طلبہ کو سٹار کارڈ دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فروغ تعلیم کیلئےانقلابی فیصلے کیے ہیں جن کے تحت مختلف اقدامات اور پراجیکٹس کا آغاز کیا گیا ہے ۔
LOADING...
سکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے طلبہ کی تعداد میں 52 فیصد اور اساتذہ کی تعداد میں 89 فیصد اضافہ ہوا ہے، 5863 پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے بعد طلبہ کی تعداد 2 لاکھ 42 ہزار سے بڑھ کر 3 لاکھ 68 ہزار ہوگئی ہے،اس کے ساتھ ہی آؤٹ سورسنگ کے بعد اساتذہ کی تعداد 8037 سے بڑھ کر 15114 ہو گئی۔
سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں3 گنا تک اضافہ ہوا ہے اور طلبہ کے لیے کرسیاں اور ڈیسک کی تعداد3 لاکھ 71 ہزار سے بڑھ کر5لاکھ 23 ہزار ہو گئی ہے،نئے سکول آف ایگسیلنس: پنجاب میں ایک ہی طرز کے جدید سکول آف ایگسیلنس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب کی ہر تحصیل میں ایک سکول آف ایگسیلنس قائم ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے میٹرک تک کے طلبہ کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ لیب بنانے کا اعلان کیا اور کلاس فائیو سے ٹیکنیکل ایجوکیشن بطور مضمون شامل کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی،وزیراعلیٰ مریم نواز نے سکولوں میں پینے کے پانی، وائٹ واش اور فرنیچر کے لیے 90 دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بھکر، لیہ سمیت دیگر اضلاع میں سکول میل پروگرام کے اجرا کے لیے فوری اقدامات کا حکم دیا ہے،مظفرگڑھ، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں سکول میل پروگرام کے بعد طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور 631050 سے بڑھ کر 416803 ہوگئی ہے،ایجوکیشن افسروں اور اساتذہ کی کارکردگی چانچنے کے لیے کے پی آئی سسٹم کے نفاذ کی ہدایت دی ہے۔
، لاہور کے 338 سکولوں میں انگلش بول چال کی کلاسز کے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا اور سرکاری سکولوں میں انگلش بول چال کے انٹرنیشنل کورسز کرانے اور سرٹیفکیٹ دینے کی تجویز پر اتفاق کیا، پنجاب بھر میں سکولوں کے سامنے روڈز پر زبیرا کراسنگ بنانے کی ہدایت دی ہے تاکہ طلبہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
پنجاب بھر میں "ایک پودا، استاد کے نام پروگرام" کے تحت 20 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں،نئے کلاس رومز اور عمارتوں کی تعمیر: وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب میں 5سال کے دوران مرحلہ وار 30 ہزار کلاس رومز، 600 ایلیمنٹری اور 400 ہائی سکولز بنانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی کوالٹی بہتر بنانے پر انویسٹ کیا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں کا معیار اعلیٰ ترین پرائیویٹ سکولوں کے برابر لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پڑھائیں نہ پڑھائیں، تنخواہ مل جاتی ہے" کا کلچر تبدیل کرنا ضروری ہے۔