وفاقی بجٹ 25-2024 ء :عوام پر کتنا بوجھ پڑے گا؟

Federal Budget 2024-25: How much will be the burden on the people?
وفاقی حکومت آج اقتصادی سروے پیش کرے گی ،اس کے بعد قومی بجٹ پیش کیا جائے گا،گزشتہ مالی سال میں کیا کھویا کیا پایا؟ اور آئندہ مالی سال کیسا ہونا چاہئے؟اور کیسا ہوگا؟اس حوالے سے بھی معاشی ماہرین اپنی رائے پیش کرتے نظر آتے ہیں ،عوام پر کتنے ٹیکس لگیں گے؟کتنا بوجھ پڑے گا؟کیا مہنگائی میں اضافہ ہوگا یا کمی آئے گی؟ملک کا جی ڈی پی بڑھے گا یا پھر استحکام رہے گا؟روپے کی قدربڑھے گی یا گھٹے گی؟یہ سب سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں؟ 

حکومت جب جب ٹیکس بڑھانے کی نیت کرتی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام پر ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ بڑھنے والا ہے ۔بجٹ جب بھی پیش کیا جاتا ہے تو عوام پر نئے ٹیکسز کے بوجھ کی نوید پہلے سنادی جاتی ہے ۔ہر بار عوام بجٹ سے آس تو لگاتے ہیں لیکن بیشتر اوقات اُن کی آس چور چور ہی ہوتی نظر آئی ہے ۔اب حکومت بدھ کے روز بجٹ پیش کرنے جارہی ہے اور اب 7 ہزار اشیاء پر اضافی ٹیکس لگنے جارہا ہے۔اور ظاہر ہے یہ ٹیکس عوام کی جیبوں سے وصول کیا جائے گا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھنے والا ہے ۔ آئندہ مالی سال 25-2024 ءکے لیے وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس ہدف رکھا گیا ہے۔میڈیا کے مطابق آئندہ مالی سال 25-2024 ءکے لیے کل پیش ہونے والے وفاقی بجٹ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے اور ٹیکس ہدف میں 3440 ارب روپے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کیلئے 12 ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا جائے گا۔

 ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایف بی آر کے مطابق آئندہ بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کیلئے نئے ٹیکسز لگانے، سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز ہے۔ 7 ہزار اشیا پر اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، جس کے نتیجے میں چینی، چاول، دالیں، دودھ، آٹا، چائے کی پتی، تیل، گھی، بچوں کے ڈائپر سمیت ضرورت زندگی کی ہر چیز مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر ابتدائی مراحل میں 6 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

 پٹرولیم مصنوعات پر 6 فیصد سیلز ٹیکس سے تقریباً 600 ارب روپے ریونیو متوقع ہے جب کہ آئندہ مالی سال کیلیے فنانس بل میں تمام سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی تیار کی جا رہی ہے۔آئندہ بجٹ میں ڈبے میں بند دودھ پر سیلز ٹیکس لگانے کا امکان ہے۔ سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے تقریباً 550 ارب روپے اضافی آمدن کا امکان ہے جب کہ اضافی ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلیے سیلز ٹیکس شرح مزید ایک فیصد مزید بڑھانے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سیلزٹیکس کی شرح 18 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد تک پہنچ جائے گی اور ذرائع کے مطابق سیلز ٹیکس شرح بڑھنے سے تقریباً 100 ارب روپے اضافی ریونیو متوقع ہے۔میڈیا رپوٹس کے مطابق وزرات خزانہ کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سیلز ٹیکس کا ایک فیصد اضافہ مختلف برانڈ کی 7 ہزار مصنوعات پر ہو سکتا ہے۔ کمرشل درآمد کنندگان کیلئے  درآمدی ڈیوٹیز ایک فیصد بڑھانے کی تجویز زیرغور ہے جب کہ کمرشل درآمد کنندگان پر ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے سے 50 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح بڑھنے سےمہنگائی کی شرح آئندہ مالی سال بھی بڑھنے کا خدشہ ہوگا جب کہ آئندہ بجٹ کیلیے تمام ٹیکس تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں۔ بجٹ میں 700 ارب روپے مزید حاصل کرنے کیلیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی پر سیلز ٹیکس 18 سے 19 فیصد ہونے سے چینی فی کلو 5 روپے تک مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ ایک فیصد سیلز ٹیکس بڑھنے سے گھی 5 سے 7 روپے کلو مہنگا، خوردنی تیل بھی 5 سے 7 روپے لیٹر مہنگا، صابق 2 سے 5، شیمپو 15 سے 20 روپے تک مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح ایک فیصد سیلز ٹیکس بڑھنے سے ٹوتھ پیسٹ کی قیمت میں 5 سے 7 روپے اضافہ، ٹوتھ برش 5 سے 7 روپے مہنگا، پالش 3 سے 5 روپے اضافے کا امکان ہے۔ سیلز ٹیکس 18 سے 19 فیصد کیے جانے کے بعد مشروبات کی فی لیٹر بوتل 5 سے 7 روپے مہنگی ہوگی، کاربونیٹڈ ڈرنکس بھی 5 سے 7 اور شربت پاؤڈر 5 سے 7 روپے پیکٹ، باتھ روم دھونے کی لیکوڈ بوتل 10 سے 15 روپے مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ایک فیصد سیلز ٹیکس میں اضافہ دہی کو بھی 7 سے 10 روپے مہنگا کردے گا، پاؤڈر دودھ 20 سے 30 روپے فی پیکٹ مہنگا، فیٹ ملک 5 سے 7 روپے لیٹر مہنگا ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ الیکٹرانکس، میک اپ، بال رنگنے والی اشیا، کپڑے، مختلف برانڈز کے ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات میں بھی اضافہ ہوگا۔مسالہ جات کے درجنوں آئٹمز مہنگے ہوں گے۔ جبکہ چائے اور قہوہ سمیت درجنوں برانڈ کے بیکنگ آئٹمز، نوڈلز، اسپگیٹی، پاستہ مصنوعات، بچوں کے ناشتے کے درجنوں سیریلز، دلیہ، جام جیلی، مارملیڈ، ٹشو، پیپر نیپ کن، بچوں کے ڈائپر بھی مہنگے ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک فیصد ٹیکس کے بڑھنے سے برتنوں کی سیکڑروں اشیا مہنگی ہونے کا امکان ہے جبکہ لوشن، کریم، مصنوعی زیورات، پرفیوم، باڈی اسپرے، کیمرہ، اسمارٹ واچ اور گھڑیاں بھی مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
 یہ حقیقت ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہوگا،آئی ایم ایف کی سفارشات پر بننے والے بجٹ سے عوام کو اچھے کی توقع ہرگز نہیں ہوسکتی ،آئی ایم ایف نے اپنے قرض کی وصولی کرنی ہے اور حکومت کیلئے عام آدمی سے ٹیکس کےذریعے وصولی آسان ہے اس کے برعکس کہ امراء سے لئے جائیں ۔




اشتہار


اشتہار