Important developments in Noor Muqadam case

 

نورمقدم کیس میں اہم پیشرفت

تفصیلات کے مطابق مدعی مقدمہ شوکت مقدم وکیل شاہ خاور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر کے وکیل عثمان کھوسہ کی جانب سے دلائل دیئے گئے ۔

وکیل عثمان کھوسہ نے کہا کہ کیس میں 9 ملزمان بری ہوئے 3 کو سزا ہوئی،9ملزمان کے بری ہونے سے 75 فیصد کیس یہ ثابت نہیں کرسکے ،کیا ظاہر جعفر کو فیئر ٹرائل ملا ہے اس حوالے سے معاونت کروں گا ،ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو کاپی کی نقول دیں لیکن اس نے دستخط نہیں کیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کا میڈیکل چیک اپ نہیں کیا گیا ؟

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ اگر کسی اسٹیج پر بھی پتہ چل جائے میڈیکل چیک اپ ضروری ہے، عدالت نے وکیل عثمان کھوسہ سے استفسار کیا کہ ویسے آپ کو کس نے ہائر کیا ہے؟ وکیل عثمان کھوسہ نے کہا کہ ظاہر جعفر کے والد جیل گئے اور وکالت نامے پر دستخط کروائے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وکیل ہائر کر سکتا ہے تو کیسے اس قسم کے اعتراضات اٹھا سکتا ہے؟ اگر کورٹ نے جیل سے میڈیکل اپ چیک کرایا تو اس کے بعد آپ نے کوئی اعتراض اٹھایا ؟

وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ان کی درخواست ٹرائل کورٹ سے خارج ہوئی لیکن اس کو چیلنج نہیں کیا گیا،عدالت نے ظاہر جعفر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی آر میں کچھ دیر تھی؟ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جہاں سے ڈیڈ باڈی ملے اس کو پراسیکیوشن نے دیکھنا ہے،آپ یہ کہہ رہے ہیں میں کچھ نہیں کہتا لیکن پراسیکیوشن کچھ ثابت نہیں کر سکی ؟چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کیس لاء موجود ہیں کہ جس گھر میں ڈیڈ باڈی ملی ہے وہ اگر ثابت نہ کر سکیں کہ باڈی وہاں کیسے پہنچی تو قتل کے ذمہ دار وہ گھر والے ہونگے. 

وکیل ذاکر جعفرنے دلائل دیئے کہ کرائم سین پر پولیس اہلکار کیس رجسٹرڈ ہونے سے کافی ٹائم پہلے موجود تھے.کیس سوا گیارہ بجے رپورٹ ہوا اور ساڑھے گیارہ بجے ایف آئی آر درج ہوئی، پولیس وہاں ساڑھے نو بجے اور پونے دس بجے موجود تھی. 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کریمنل لامیں ہر ججمنٹ کا اپنا بیک گراؤنڈ ہوتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل  تک کے لیے ملتوی کردی۔

Advertisement


Advertisement