Meta is adding code to websites to track users.

 

Meta is adding code to websites to track users.


کیلیفورنیا(این این آئی) گوگل کے ایک سابق انجینیئر کی نئی تحقیق کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اپنے صارفین کی جانب سے کھولی جانے والی ویب سائٹس نقل کر رہی ہے تاکہ جب وہ صارفین اِن ایپس میں لنک کو کلک کریں تو کمپنی ان صارفین کی


انٹرنیٹ پر نگرانی کرسکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پرائیویسی محقق فیلکس کراس کا کہنا تھا کہ انسٹاگرام ایپ دِکھائی جانے والی ہر ویب سائٹ بشمول دِکھائے جانے والے اشتہارات میں اپنا ٹریکنگ کوڈ شامل کردیتی ہے۔ جس کے بعد یہ ایپ صارفین کی تمام حرکات پر نظر رکھتی ہے جیسے کہ ہر بٹن یا لنک جو کلک کیا گیا ہو، ٹیکسٹ جو منتخب کیا گیا ہو، جو اسکرین شاٹ لیا گیا ہو۔ اس کے ساتھ کسی قسم کی داخل کی گئی معلومات جیسے کہ پاسورڈ، ایڈریس اور کریڈٹ کارڈ نمبر بھی اسی میں شامل ہیں۔یہ دو ایپ اس بات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں کہ ان کے صارفین جب ایپ میں موجود کسی لنک کو کلک کرتے ہیں تو سفاری یا فائر فاکس کے بجائے ان ایپس کے برازر پر ہی لنک کھلتے ہیں۔میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ٹریکنگ کوڈ کا ڈالا جانا صارفین کی ترجیحات کے تابع ہوتا ہے کہ آیا وہ ایپ کو ان پرنظر رکھنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ اس کوڈ کا مقصد اشتہارات کی بابت صارفین کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ کوڈ قصدا بنایا تھا تاکہ ہمارے پلیٹ فارمز پر صارفین کے پسند نا پسند احترام کیا جائے۔















حوالہ

Post a Comment

٭ news.naseerudin.com and its policy do not necessarily agree with the comments.

Previous Post Next Post

Advertisement


Advertisement