LOADING...
Nobel Prize in Physics announced https://t.co/AkNcYGN0Ur
— Reuters (@Reuters) October 6, 2026
آئس کیوب میں نیوٹرینو کبھی کبھار برف کے ایٹمی مرکزے سے ٹکراتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیز رفتار ذرات پیدا ہوتے ہیں، یہ ذرات برف میں سے گزرتے ہوئے نیلی روشنی کی جھلک پیدا کرتے ہیں، جسے حساس ڈیٹیکٹرز ریکارڈ کرتے ہیں، روشنی کے وقت اور سمت کے تجزیے سے سائنس دان نیوٹرینو کے ممکنہ ماخذ کا تعین کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق آئس کیوب نے کائنات کے مطالعے کے لیے ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے اور اس کے ذریعے سائنس دان دور دراز کہکشاؤں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیوہیکل بلیک ہولز کے گرد انتہائی توانائی والے ماحول کا مطالعہ کر رہے ہیں۔نوبل کمیٹی برائے فزکس کے چیئرمین پروفیسر مارک پیئرس نے فرانسس ہالزن کی سائنسی بصیرت اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے فلکیات میں ایک نئی قسم کی تحقیق کی راہ ہموار کی ہے۔
فرانسس ہالزن کون ہیں؟
فرانسس ہالزن بیلجیئم میں پیدا ہونے والے معروف ماہرِ طبیعیات ہیں۔ ان کا تعلق ذراتی طبیعیات، فلکی طبیعیات اور کائنات کے مطالعے سے ہے۔ انہوں نے بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی آف لووین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1969 میں طبیعیات میں ڈاکٹریٹ مکمل کی1972 سے وہ امریکا کی یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہیں، جہاں انہوں نے تدریس اور تحقیق کے ساتھ ساتھ آئس کیوب منصوبے کی قیادت کی۔رانسس ہالزن نے 1988 میں قطبِ جنوبی کی برف کو استعمال کرتے ہوئے خلا سے آنے والے نیوٹرینو ذرات کا سراغ لگانے کا تصور پیش کیا، ان کی قیادت میں یہ تصور ایک بڑے سائنسی منصوبے کی شکل اختیار کر گیا۔
جسے آئس کیوب نیوٹرینو رسدگاہ کہا جاتا ہے۔آئس کیوب انٹارکٹیکا میں تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف کے اندر نصب ہزاروں حساس آلات پر مشتمل ہے۔ یہ آلات انتہائی کم یاب نیوٹرینو ذرات سے پیدا ہونے والی روشنی کا سراغ لگاتے ہیں۔ نیوٹرینو کے ذریعے سائنس دان کائنات کے دور دراز اور انتہائی توانائی والے مظاہر، بشمول کہکشاؤں اور بڑے بلیک ہولز کے گرد ہونے والے واقعات، کا مطالعہ کرتے ہیں۔فرانسس ہالزن کی کوششوں نے نیوٹرینو فلکیات کے ایک نئے شعبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں اس سے قبل بھی کئی اہم سائنسی اعزازات مل چکے ہیں۔

