LOADING...
لائبہ نے اسلامک یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لیا تھا۔کرایے کے فلیٹ ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی ۔ باپ دودھ بیچ کر بیٹی کو پڑھا رہا تھا۔ کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیے ستر لاکھ روپے مانگے ، باپ نے پلاٹ بیچا ، ماں نے زیور بینک میں رکھوایا ، بیٹی نے جب ڈاکیومنٹ چیک کروائے تو سب کچھ جعلی تھا ۔ اس وجہ سے دلبرداشتہ ہو گئی ۔ مرنے سے پہلے ماموں کو میسج کیا کہ ابو کو اس فراڈ کا پتہ نہ چلے، وہ مر جائیں گے ۔ ابو کو پتہ چلا کہ پیسہ گیا، خواب تباہ ہو گئے، بیٹی مر گئی ۔ حکمرانوں نے آج بھی اچھی نیند کی۔ ایف آئی اے کے تمام اہلکار سکون سے سوئے ۔ ٹی وی اینکرز نے دھرنے کی خوب کوریج کی ۔ اللہ کی لعنت ہو تو ان تمام زندگیوں پر جو اس موت کی وجہ بنے اور اس ظلم کے خلاف نہیں بولے ۔
— Sabookh Syed | Journalist (@SaboohSyed) October 9, 2026
اپنی موت سے قبل لائبہ نے اپنے ماموں کو ایک پیغام بھیجا جس میں کہا تھا کہ ’ابو کو اس فراڈ کا پتہ نہ چلے، وہ مر جائیں گے‘ لیکن اب تو باپ کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور پلاٹ بھی گیا، بیٹی کے خواب بھی راکھ ہو گئے اور بالآخر بیٹی بھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔اس واقعے پر صحافی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا جس میں انہوں نے حکمرانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ایف آئی اے کی مجرمانہ غفلت اور میڈیا کے دوہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں حکمران اور متعلقہ ادارے چین کی نیند سو رہے ہیں، وہیں غریبوں کی زندگیاں اس نظام اور جعلسازوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔
