فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا

Husband allegedly sells wife to friend in exchange for loan money in Faisalabad
فیصل آباد کے علاقے کوکیاں والا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے شوہر نے قرض کے تنازع کے بعد اسے اپنے ایک دوست کے حوالے کر دیا، جہاں اسے مبینہ طور پر جبری نکاح، تشدد اور دیگر سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑامتاثرہ خاتون نادیہ، جو اس وقت مدن پورہ میں اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی شادی تقریباً بارہ برس قبل عثمان نامی شخص سے ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ 

LOADING...

ان کے مطابق شادی کے بعد خاندان کرائے کے مکان میں منتقل ہوا، جہاں شوہر نے اپنے ایک دوست شہزاد، جو پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر ہے، سے قرض حاصل کیاخاتون کے مطابق قرض کی واپسی کے معاملے پر شوہر نے انہیں مبینہ طور پر اپنے دوست کے حوالے کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں شوہر دو بچوں کو ساتھ لے کر چلا گیا، جبکہ انہیں اور ان کے کم عمر بیٹے کو اسلحے کے زور پر ایک دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا اور اہل خانہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد میں ان کے نام پر مبینہ طور پر جعلی طلاق نامہ تیار کیا گیا، شناختی دستاویزات پر زبردستی دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے، اور بعد ازاں دھمکیاں دے کر ان سے جبری نکاح کرایا گیا۔ ان کے بقول اس دوران انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا اور ایک سال تک مختلف نوعیت کے ظلم کا سامنا کرنا پڑانادیہ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائیوں نے طویل تلاش کے بعد انہیں واپس گھر پہنچایا، تاہم ان کا ایک کم عمر بیٹا اب بھی مبینہ طور پر ملزم کے پاس ہے جبکہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

متاثرہ خاتون کے مطابق انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے سی پی او فیصل آباد کو درخواست دے رکھی ہے، لیکن اب تک نہ تو ملزمان گرفتار ہو سکے ہیں اور نہ ہی ان کے بچوں کی مکمل بازیابی ممکن ہو سکی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ان کے تینوں بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔






اشتہار


اشتہار