ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی مبینہ غفلت؛ زندہ نوزائیدہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا

Alleged negligence of Sahiwal Teaching Hospital; Death certificate issued for live newborn girl
 ساہیوال کے ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ایک زندہ نوزائیدہ بچی کو مردہ قرار دے کر اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا، ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے ماموں سے لاش وصول کرنے کے کاغذات پر دستخط بھی کروا لیے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق متاثرہ خاندان نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلے بچی کی موت کی اطلاع دی گئی، لیکن جب ہم نے لاش کا مطالبہ کیا تو انہیں لاش فراہم نہیں کی گئی، ہسپتال حکام نے ہماری نوزائیدہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا، اس سنگین صورت حال پر ہم نے ہسپتال میں شدید احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس اور میڈیا کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی، پولیس کی فوری مداخلت اور دباؤ کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے بالآخر زندہ بچی والدین کے حوالے کی۔

LOADING...

سنگین الزامات پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ دو نوزائیدہ بچیوں کی ماؤں کے نام یکساں ہونے کی وجہ سے پیش آیا، ناموں کی اسی مماثلت کی وجہ سے غلطی سے زندہ بچی کے خاندان کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا تھا، احتجاج اور پولیس کی آمد کے بعد جب ہسپتال کے آفیشل ریکارڈ کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور تحقیقات کی گئیں تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ شکایت کنندہ خاندان کی بچی بالکل زندہ اور محفوظ تھی جبکہ فوت ہو جانے والی نوزائیدہ بچی کسی دوسرے خاندان کی تھی جس کی ماں کا نام بھی وہی تھا۔

ہسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ’دوبارہ معائنے اور ریکارڈ کی تصدیق کے بعد دونوں بچیوں کی شناخت واضح کر دی گئی ہے اور یہ محض ہم نام ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایک غلط فہمی کا کیس تھا‘، تاہم دوسری جانب اس مبینہ غفلت اور زندہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر متاثرہ خاندان شدید صدمے کا شکار ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اس مجرمانہ لاپرواہی کے ذمہ دار ہسپتال عملے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔






اشتہار


اشتہار