پشاور میں دریاؤں، ڈیموں ،نہروں میں نہانے اوربوٹنگ پر پابندی عائد

Bathing and boating banned in rivers, dams, canals in Peshawar
پشاور میں مون سون کے دوران دریاؤں، ڈیموں اور نہروں میں نہانے اور بوٹنگ پر پابندی عائد کردی گئی ، ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔ہم نیوز کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے مون سون سیزن کے اختتام تک دفعہ 144 نافذ کر دی،پشاور بھر میں دریاؤں اور نہروں میں غیر قانونی بوٹنگ اور تیراکی پر پابندی ہوگی۔

LOADING...

کابل ریور کنال، جولی شیخ کنال اور بڈھنی نالہ میں بھی تیراکی ممنوع قرار دی گئی ہے ، بڑا دریا، شاہ عالم، ناگومان اور ادیزئی دریا میں بھی نہانے پر پابندی رہے گی۔ورسک گریویٹی کنال اور ورسک لفٹ کنال میں بھی تیراکی پر پابندی لگا دی گئی ، ٹائر ٹیوبز کے ذریعے بوٹنگ اور پانی کے کناروں پر تفریحی سرگرمیاں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں ، ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور شدید گرم موسم کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اورسیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اتھارٹی نے اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

حساس گلیشیائی علاقوں میں مسلسل نگرانی، ممکنہ خطرات کا بروقت جائزہ لینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی اداروں کو ہنگامی مشینری، ضروری سامان اور عملہ ہر وقت تیار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔




اشتہار


اشتہار