روس نے ایک بار پھر ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی اور محفوظ رکھنے کی پیشکش کر دی ہےماسکو میں نیوز کانفرنس میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس نے 2015 میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کیا تھا، اب اس تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے تیار ہے۔ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا، تنازع کے تمام فریق یورینیم ایران سے باہرمنتقل کرنے پر متفق ہیں لیکن پھر امریکا نے اپنی پوزیشن سخت کر دی اور یورینیم کو امریکی سرزمین تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
LOADING...
جس پر ایرانی مؤقف بھی سخت ہو گیا۔پیوٹن کا کہنا تھا یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے اور ہمیں ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال رہا ہے، کیوں کہ ایران اور خلیجِ فارس کے ملکوں سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔ روسی صدر نے کہا میری رائے میں کوئی بھی فریق اس تنازع کو جاری رکھنے میں دل چسپی نہیں رکھتا، امید ہے ایران تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔دریں اثنا، ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ جنگ ختم ہونے کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یوکرین تنازع ایک نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے، خبر ایجنسی کے مطابق پیوٹن نے مذاکرات میں سہولت کاری پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف اور صرف روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے۔روسی صدر نے کہا کہ سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے بتایا کہ زیلنسکی آمنے سامنے ملاقات کے لیے تیار ہیں، دیرپا امن معاہدہ طے پانے کے بعد ہی زیلنسکی سے مل سکتے ہیں۔