پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔لاہور کا انمول کینسر ہسپتال باضابطہ طور پر آئی اے ای اے کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہو گیا ہے، جس کی تختی گزشتہ روز اسپتال انتظامیہ کو پیش کر دی گئی۔انمول اسپتال کو یہ درجہ فروری میں ویانا میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد ملا، جس پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آئی اے ای اے کے ڈی جی رافیل ماریانو گروسی نے دستخط کیے تھے۔
LOADING...
اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔ اس نئے اضافے کے ساتھ ہی پاکستان کے پانچ ادارے اب آئی اے ای اے کے "کولیبریٹنگ سینٹرز” بن چکے ہیں۔اس موقع پر ممبر سائنس پی اے ای سی ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ یہ اعزاز کینسر کے علاج کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی نے اسے ادارے کی تحقیق اور معیاری دیکھ بھال کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ ڈی جی ڈاکٹر شازیہ فاطمہ نے اسے قومی فخر قرار دیا۔
اسی تقریب کے دوران انمول اسپتال میں ایک ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے نصب جدید ترین "ٹرو بیم ہائپر آرک لیناک” مشین کا افتتاح بھی کیا گیا، جس کی نقاب کشائی پی اے ای سی فاؤنڈیشن کی سرپرستِ اعلیٰ میڈم فہمین علی نے کی۔واضح رہے کہ انمول کینسر اسپتال ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریضوں کو ریڈیوتھراپی، کیموتھراپی اور نیوکلیئر میڈیسن کی سستی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک بھر میں 21 کینسر اسپتالوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے جہاں سالانہ 10 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔