بھارتی ریاست تلنگانہ کی حکومت نے قانون ساز اسمبلی سے ایک تاریخی بل تلنگانہ ایمپلائز اکاؤنٹ ایبلٹی اینڈ مانیٹرنگ آف پیرنٹل سپورٹ بل 2026ء منظور کروالیا، جس کا مقصد ان نجی و سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا ہے جو اپنے والدین کو نظر انداز کرتے ہیں یا ان کی کفالت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ قانون کا اطلاق صرف ملازمین پر ہی نہیں بلکہ ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمان ، نامزد ارکان اور مقامی اداروں کے منتخب نمائندوں پر بھی ہوگا۔ اس کے تحت والدین کی دیکھ بھال نہ کرنے پر ملازم کی تنخواہ سے 15 فیصد تک کٹوتی کی جا سکے گی۔
LOADING...
بحث کے دوران وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ والدین کے حقوق کا تحفظ خیر سگالی سے ہونا چاہیے لیکن یہ بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب والدین کو نظر انداز کیا جائے تو قانون ان کا ساتھ دے۔ وہ معمر والدین جنہیں ان کی اولاد نظر انداز کر رہی ہے، وہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کے پاس درخواست جمع کرا سکتے ہیں جو اس معاملے کا فیصلہ کرنے والا مجاز افسر ہوگادرخواست گزار کو اپنی تمام ذرائع سے ہونے والی آمدنی کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی کلکٹر کو درخواست ملنے کے 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا ۔ اس دوران والدین اور ملازم دونوں کا موقف سنا جائے گا۔
کٹوتی کی رقم براہ راست والدین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی، یہ قانون سگے والدین کے ساتھ ساتھ سوتیلے والدین پر بھی لاگو ہوگا۔ اس نظام کی نگرانی کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے گا جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں گے۔ کمیشن میں انتظامی یا سماجی شعبے کے تجربہ کار ارکان بھی شامل ہوں گے۔ کمیشن کے پاس نیم عدالتی اختیارات ہوں گے بشمول انکوائری کرنے اور گواہوں کو طلب کرنے کی طاقت۔اگر والدین میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو دوسرا بقایا رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔