دوسری شادی؟؟ سات سال کیلئے جیل جاؤ گے!

Second marriage?? You will go to jail for seven years!
 دوسری شادی کرنے والا اب سیدھا جیل جائے گا اور سات سال وہیں رہے گا۔نکاح خواں بھی ساتھ ہی جیل جائےگا۔  شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے کی زیادہ سخت سزا ملےگی۔ نیا قانون اسمبلی سے منظور ہو گیا۔بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں ایک سے زیادہ شادی کرنا اب  جرم قرار پا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  ہیمنت بسوا سرما  کی حکومت نے سماجی زندگی کو بدل دینے والا نیا قانون ہندو مسلم سب پر نافذ ہوگا،آسام اسمبلی میں آج انسداد تعدد ازدواج بل 2025 پاس ہو گیا۔ اس بل کے مطابق پہلی شادی جائز ہونے پر دوسری شادی کرنا جرم ہوگا، جس کے لیے 7 سال تک کی قید اور جرمانہ کا التزام ہے۔

LOADING...

میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام اسمبلی میں آج ایک ایسا بل پاس ہو گیا جس نے ہوس پرستوں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے،  اس قانون کے منظور ہونے کے بعد ریاست میں ایک سے زیادہ شادی کرنا جرم بن گیا ہے۔ آسام اسمبلی نے ’آسام انسداد تعدد ازدواج بل، 2025‘ کو پاس کر دیا ہے۔ اس کے بارے میں یہ ضرور واضح کیا گیا ہے کہ یہ قانون کچھ علاقوں اور کچھ قبائل پر نافذ نہیں ہو گا۔ یہ علاقے اور کمیونٹیز  چھٹے شیدول میں درج ہیں۔ حکومت کے مطابق ان طبقات کی مقامی روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں فی لحال اس قانون کی سزا سے  چھوٹ دی گئی ہے۔

شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے کی زیادہ سزا

 اس بل کے مطابق پہلی شادی جائز ہونے پر دوسری شادی کرنا جرم ہوگا، جس کے لیے 7 سال تک کی قید اور جرمانہ کا التزام ہے۔ پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر سزا بڑھ کر 10 سال تک ہو جائے گا۔

دوسری شادی کی حرکت دوبارہ کی تو سزا دوگنا ہوگی

بل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ جرم دہرانے پر ہر بار سزا دوگنی ہوگی۔ بل پر بحث کے دوران وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن پارٹیوں سے گزارش کی کہ انھوں نے اس بل میں ترمیم سے متعلق جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ واپس لے لیں۔ حالانکہ اے آئی یو ڈی ایف اور سی پی آئی (ایم) نے اپنی تجاویز واپس نہیں لیں، جنھیں ایوان نے صوتی ووٹوں سے خارج کر دیا۔

دوسری شادی کا جرم کرنےوالے کو نوکری نہیں ملےگی، الیکشن نہیں لڑنے دیں گے

 نئے قانون میں تعدد ازدواج کے قصوروار پائے گئے لوگ سرکاری ملازمت کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔ سرکاری منصوبوں کا بھی وہ فائدہ نہیں لے سکیں گے۔ کسی بھی مقامی بلدیہ کے انتخاب میں حصہ لینے سے بھی وہ قاصر ہوں گے۔

نکاح خواں بھی جیل جائے گا

اس بل کے التزامات سے متعلق بات کی جائے تو  سزا کی زد میں وہ لوگ بھی آئیں گے جو تعدد ازدواج کو فروغ دینے یا چھپانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں مکھیا، قاضی، پجاری، رشتہ دار وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کو 2 سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص جانتے ہوئے ناجائز شادی کرواتا ہے تو اسے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا جرمانہ اور 2 سال تک کی قید ہوگی۔

پہلی بیوی کو کیا کچھ ملے گا

بل میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین کو معاوضہ، قانونی تحفظ اور دیگر امداد دستیاب کرائی جائے گی تاکہ وہ معاشی و سماجی طور سے محفوظ رہ سکیں۔ آسام حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے معاملوں میں خواتین کو اکثر سب سے زیادہ چوٹ پہنچتی ہے اور یہ قانون ان کی حفاظت و احترام یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس بل کو ریاست میں خواتین کے حقوق کو مضبوط کرنے، فیملی نظام کو قانونی طور سے تحفظ فراہم کرنے اور سماجی اصلاح لانے کے لیے نتیجہ خیز قدم بتایا ہے۔

اسلام زیادہ شادیوں کو فروغ نہیں دیتا: چیف منسٹر ہیمنت بِسوا کافہم

انسداد تعدد ازدواج بل پاس ہونے سے قبل آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ایک بیان بھی دیا، جس کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مسلم طبقہ کو اذیت پہنچی ہے۔ سی ایم ہیمنت بِسوا نے کہا کہ ’’اسلام تعدد ازدواج کو فروغ نہیں دے سکتا۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو آپ کو ایک سچا مسلمان ہونے کا موقع ملے گا۔ یہ بل اسلام کے خلاف نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سچے اسلامی لوگ اس قانون کا استقبال کریں گے۔

ترکیئے اور پاکستان کی مثالیں

ہیمنت بِسوا نے دلیری کے ساتھ کہا،  ترکیے جیسے ممالک نے بھی تعدد ازدواج پر پابندی لگا دی ہے۔ پاکستان میں ایک آربیٹیشن کونسل ہے۔‘‘ ہیمنت بسوا سرما نے یونیفارم سول کوڈ سے متعلق بھی ایک بیان دیا، جسے سیاسی طور پر انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر میں وزیر اعلیٰ کے طور پر اسمبلی میں واپس آتا ہوں تو پہلے سیشن میں یو سی سی لاؤں گا۔ میں آپ کو اپنا کمٹمنٹ دیتا ہوں کہ میں آسا م میں یو سی سی نافذ کروں گا۔‘‘





اشتہار


اشتہار