The famous reciter died while leading the prayer.

نماز کی امامت کراتے ہوئے مشہور قاری انتقال کر گئے۔

نماز کی امامت کراتے ہوئے مشہور قاری انتقال کر گئے۔

مصر کے مشہور قاری شیخ عبداللہ کامل امریکہ میں 37 سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔عرب ٹی وی کے مطابق مرحوم شیخ کے قریبی افراد نے بتایا کہ قاری عبد اللہ امریکی ریاست نیو جرسی کی التوحید مسجد میں نمازیوں کی امامت کرتے ہوئے اپنی خالق حقیقی سے جا ملے۔

مصری شیخ اور اسلامی مبلغ شیخ عبداللہ کامل فیوم گورنری کے مرکز یوسف الصدیق کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی بریل طریقہ پر پورا قرآن کریم حفظ کرلیا تھا۔ وہ اپنی بینائی کھو بیٹھے تھے۔ انہوں نے 2005 میں دارالعلوم فیوم یونیورسٹی کی فیکلٹی سے گریجویشن کیا۔قاری عبد اللہ کامل قرآن مجید کی دل کو چھو لینے والی تلاوت کرتے اور نماز میں اپنی سریلی آواز کے حوالے سے مشہور و معروف تھے۔اپنی امریکہ روانگی سے کچھ دن قبل قاری عبد اللہ کامل کے ہاں 10 اپریل کو بچہ پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے فیس بک پر اپنے آفیشل پیج پر پوسٹ کیا کہ اللہ نے مجھے بیٹا دیا ہے جس کا نام میں نے سفیان رکھا ہے۔نوجوان قاری نے 2015 میں ایک سیٹلائٹ چینل پر تلاوت قرآن کے مسابقے المزمار الذھبی میں حصے لینے کے بعد وسیع پیمانے پر شہرت حاصل کی تھی۔ اس مقابلے میں انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔عرب دنیا کے مشہور قرا کرام نے مرحوم شیخ عبد اللہ کامل کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔ خاص طور پر کویتی قاری اور نظم گو مشاری راشد العفاسی، شیخ ماہر المعقلی اور دیگر نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔کویتی قاری احمد بن عبدالعزیز النفیس نے لکھا “نابینا قاری شیخ عبداللہ کامل المصری کچھ عرصہ قبل امریکہ میں اپنی تلاوت کی مٹھاس اور قوت ادا کے حوالے سے مشہور تھے کی وفات پر دل غمگین ہے۔ ان کی جدائی کے غم میں آنکھیں رواں ہیں۔جامعہ الازہر میں حدیث کے پروفیسر، قرآن ریویو کمیٹی کے چیئرمین اور مصری کے تمام قاریوں کے سابق شیخ ڈاکٹر احمد عیسی المعصراوی نے لکھا کہ اللہ شیخ عبداللہ کامل پر رحم فرمائے۔ ان کی قبر کو منور فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔

اشتہار


اشتہار