At which airport will Nawaz Sharif land on his return?

 

At which airport will Nawaz Sharif land on his return?


Former Prime Minister Mian Nawaz Sharif's plane is likely to land in another city instead of reaching Lahore from London.

According to the party sources, the top leadership of the Muslim League-N has given instructions to the leadership of the four provinces to prepare for Nawaz Sharif's return home in September or October.


سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا طیارہ لندن سے لاہور پہنچنے کی بجائے کسی اور شہر میں لینڈ کرنے کا امکان ہے۔


پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کی آئندہ ماہ ستمبر یا اکتوبر میں وطن واپسی کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے چاروں صوبوں کی قیادت کو تیاریوں کی ہدایات دے دیں۔


نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے کراچی، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے نام زیر غور ہیں جبکہ پارٹی کے زیادہ تر اہم رہنماؤں نے کراچی یا اسلام آباد اترنے کا مشورہ دے دیا۔


نواز شریف کی واپسی سے قبل قانونی معاملات نمٹانے کیلئے پارٹی کے آئینی و قانونی ماہرین سے بھی رائے مانگی جائے گی جبکہ انکے وطن پہنچنے سے قبل عدالتی معاملات حل کرنے کیلئے پٹیشنز دائر کرنے پر بھی غور ہوگا، قانونی معاملات حل ہونے پر نواز شریف کو ایئرپورٹ سے بڑی ریلی کی صورت میں لاہور یا اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ پہنچایا جائے گا۔


وطن واپسی کا حتمی فیصلہ نواز شریف پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کریں گے اور وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان نواز شریف خود لندن میں پریس کانفرنس میں کریں گے، نواز شریف کی وطن واپسی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے کئی اہم سرکردہ لوگ بھی لندن جائیں گے۔


نواز شریف لیگی سرکردہ رہنماؤں کے ہمراہ وطن واپس آئیں گے، نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں بھی زیر بحث لایا جائے گا اور متفقہ فیصلہ ہوا تو پی ڈی ایم رہنما بھی لندن سے واپسی پر نواز شریف کے ہمراہ ہو سکتے ہیں۔


یاد رہے کہ لاہور جلسے میں خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی کہا تھا کہ یہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نااہل قرار دے کر ستمبر میں نواز شریف کو وطن واپس لا کر یہ موقف اپنایا جائے کہ دونوں کی نااہلی ختم ہونی چاہیے، لیکن میں کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔















حوالہ

Post a Comment

٭ news.naseerudin.com and its policy do not necessarily agree with the comments.

Previous Post Next Post

Advertisement


Advertisement